☪️ زکوٰۃ کیلکولیٹر

اسلامی اصولوں کے مطابق اپنی زکوٰۃ کا حساب لگائیں — سونا، چاندی، نقد رقم، کاروبار سب شامل

نصاب ۲۰۲۵ کے مطابق ۲.۵٪ زکوٰۃ شرح

📊 نصاب کیا ہے؟

نصاب وہ کم از کم مقدار ہے جس پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے۔ اگر آپ کا مال نصاب سے زیادہ ہو اور ایک سال (حول) گزر جائے تو زکوٰۃ دینا فرض ہے۔

سونے کا نصاب
85 گرام
تقریباً SAR 24,000–28,000
چاندی کا نصاب
595 گرام
تقریباً SAR 2,500–3,000
زکوٰۃ کی شرح
2.5٪
کل زکوٰۃ اثاثوں پر

🧮 زکوٰۃ حساب کریں

💵 نقد رقم اور بینک بیلنس
🥇 سونا اور چاندی
🏪 کاروبار
➖ واجب الادا قرضے

📊 حساب کا نتیجہ

کل اثاثے SAR 0
منہا: قرضے − SAR 0
زکوٰۃ قابل اثاثے SAR 0
نصاب (سونا — SAR) SAR 26,350
آپ کی واجب الادا زکوٰۃ
SAR 0

🤲 زکوٰۃ کہاں دیں؟

قرآن مجید (سورہ توبہ ۶۰) میں زکوٰۃ کے آٹھ مستحق بیان کیے گئے ہیں:

۱. فقراء
جن کے پاس ضرورت سے کم ہو
۲. مساکین
انتہائی محتاج لوگ
۳. زکوٰۃ کارکنان
زکوٰۃ جمع کرنے والے
۴. مولفۃ القلوب
جن کے دلوں کو مائل کرنا ہو
۵. غلامی سے آزادی
آج: استحصال سے نجات
۶. مقروض
قرض میں دبے لوگ
۷. فی سبیل اللہ
اللہ کی راہ میں
۸. مسافر
پھنسے ہوئے مسافر

❓ اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں پر زکوٰۃ فرض ہے؟+
جی ہاں — مسلمان کہیں بھی رہے، اگر اس کے پاس نصاب کے برابر مال ہو اور ایک سال گزر جائے تو زکوٰۃ فرض ہے۔ سعودی حکومت ویسے بھی سعودی شہریوں سے زکوٰۃ خودکار وصول کرتی ہے، لیکن غیر ملکیوں کو خود ادا کرنی ہوتی ہے۔
تنخواہ پر زکوٰۃ کیسے حساب ہوگی؟+
تنخواہ پر زکوٰۃ اس طرح ہوتی ہے: سال بھر کی تنخواہ جمع کریں، ضروری اخراجات نکالیں، جو بچے وہ بینک میں موجود رقم کے ساتھ ملا کر نصاب سے موازنہ کریں۔ اگر نصاب سے زیادہ ہو تو ۲.۵٪ زکوٰۃ۔
گھر، گاڑی اور ذاتی استعمال کی چیزوں پر زکوٰۃ ہے؟+
نہیں — ذاتی استعمال کا گھر، گاڑی، فرنیچر، کپڑے اور گھریلو سامان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ صرف وہ مال جو بڑھنے کے لیے ہو (نقد، سونا، کاروبار، سرمایہ کاری) زکوٰۃ کے قابل ہے۔
رمضان میں زکوٰۃ دینا ضروری ہے؟+
رمضان میں زکوٰۃ دینا زیادہ ثواب کا باعث ہے، لیکن ضروری نہیں کہ رمضان ہی میں دیں۔ زکوٰۃ اس وقت فرض ہوتی ہے جب آپ کے مال پر ایک قمری سال (حول) پورا ہو جائے۔
GOSI اور EOBI کی رقم پر زکوٰۃ ہے؟+
جب تک یہ رقم آپ کے ہاتھ میں نہ آئے، زکوٰۃ نہیں ہے۔ جب ملے تب ایک سال کا حساب شروع ہوتا ہے — یا بعض علماء کہتے ہیں کہ ملتے ہی اسی سال کی زکوٰۃ نکال دیں۔